ایمرسن یونیورسٹی ملتان کی اکیڈمک کونسل کا پہلا اجلاس

ایمرسن یونیورسٹی ملتان کی اکیڈمک کونسل کا پہلا اجلاس ، چھ نئی فیکلٹیز اور پینتیس نئے شعبہ جات کے قیام کی منظوری ، سمسٹررولز،داخلہ قوانین،اکیڈمک کونسل کے قوانین، فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی،ڈسپلن کمیٹی کے ممبران اور ایڈمشن 2022 کی منظوری

گذشتہ روز ایمرسن یونیورسٹی ملتان کی اکیڈمک کونسل کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ جس کی صدارت پروفیسرڈاکٹر شوکت ملک وائس چانسلر ایمرسن یونیورسٹی ملتان نے کی۔ میٹنگ میں اکیڈمک کونسل کے معزز اراکین پروفیسر ڈاکٹر ضیا القیوم، وائس چانسلرعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد، سید حبیب بخاری وائس چانسلر کوہسار یونیورسٹی مری، پروفیسر شفاعت یار خان ،ڈین سکول آف انگلش،منہاج یونیورسٹی لاہور، ڈپٹی سیکرٹری ہائر ایجوکیشن پنجاب آصفہ سہیل، پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد،سابق پروفیسر زکریا یونیورسٹی،ملتان، پروفیسر میاں محمد نواز ،رجسٹرار ایمرسن یونیورسٹی، پروفیسر جام مختار حسین صدر شعبہ باٹنی، ڈاکٹر ضیا احمدسینئر پروفیسر شعبہ انگریزی ،ڈاکٹر محمد ابرار،کنٹرولر امتحانات ایمرسن یونیورسٹی نے شرکت کی۔ اجلاس میں تمام ایجنڈاآئٹمز کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ،جس کے تحت ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں چھ فیکلٹیزکے قیام کی منظوری دی گئی۔ان فیکلٹیز میں فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز،فیکلٹی آف سائنسز،فیکلٹی آف لینگویجز اینڈ اسلامک سٹڈیز،فیکلٹی آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ کامرس،فیکلٹی آف لا، اورفیکلٹی آف فارمیسی شامل ہیں۔ ان چھ فیکلٹیز کے تحت پینتیس مختلف شعبہ جات کے قیام اور یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط،داخلہ قوانین، سمسٹر رولزاور طلبا کے ضابطہ اخلاق اور وظائف کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی۔ اکیڈمک کونسل نے ڈاکٹر ضیا احمد پروفیسر شعبہ انگریزی کو فنانس اینڈ پلاننگ ،ڈاکٹر محمد ابرار پروفیسر شعبہ اردو اور جام مختار حسین پروفیسر شعبہ باٹنی کو ڈسپلن کمیٹی کے بطورممبرنامزدگی کی منظوری دی۔اجلاس میں 2023-2022 کے لیے مختلف بی ایس پروگرامزمیں داخلہ جات کی بھی منظوری دی گئی،جس کے تحت مختلف شعبہ جات میں بی ایس پروگرامز میں داخلے انٹرمیڈیٹ پارٹ فرسٹ کی بنیاد پر جلد شروع کیے جائیں گے۔

ممبران نے وائس چانسلرایمرسن یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر شوکت ملک کو اکیڈمک کونسل کی پہلی کامیاب میٹنگ کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی، اس کو تاریخ ساز کرار دیا اورمستقبل میں بھی اپنے مکمل تعاون اور بھرپورحمایت کایقین دلایا۔

Comments are closed.